Demo Qita — Safar
سفر زندگی کا کتاب ہےہر قدم ایک سبق ہے
سفر زندگی کا کتاب ہےہر قدم ایک سبق ہے
اک نئی صبح کی تلاش میںچراغ اٹھا کے چلتے ہیں ہم
دوست وہ جو رنج میں ساتھ دےخوشی میں سب ساتھ ہوتے ہیں
راستے خود نہیں چلتےچلنے والے چلے جاتے ہیں
ماہتاب میں یہ کہانی ہےپرانی گلی سہانی ہے
کتابیں کھلی ہیں میز پرالفاظ جاگ رہے ہیں
دریا ہر موڑ پر نیا سبق دیتا ہےبہنا سیکھو تو رکنا کیا ہے
ماں کی گود دنیا کی پہلی چھاؤں ہےاس کی دعا ہر فاصلے کی ساتھی
شہر کی بھیڑ میں تنہائی کی باتسب جانتے ہیں، کوئی نہیں کہتا
خواب وہ مٹی نہیں جو پان میں ملےیہ دل کی سب سے صاف زبان ہے