Demo Ghazal — Yeh Shaam (شامِ یادوں)
یہ شام بھی کتنی سہانی ہےتیری یادوں کا پیار سمایا ہے
یہ شام بھی کتنی سہانی ہےتیری یادوں کا پیار سمایا ہے
اک نئی صبح کی تلاش میںچراغ اٹھا کے چلتے ہیں ہم
بارش کے قطرے کھڑکی پرلکھتے ہیں کہانیاں پیار کی
تنہائی کی رات بڑھتی ہےستارے بھی غم میں روتے ہیں
سجدوں میں جب بھی جھکا میںسکون ملا ہے ترے پس
دوست وہ جو رنج میں ساتھ دےخوشی میں سب ساتھ ہوتے ہیں
مٹی کی خوشبو روح میں گھلیپرچم بلند رہے ہر صبح
چاند پوچھتا ہے ہر رات مجھ سےتیرا چہرہ کہاں چھپا ہے
ہر منزل کے بعد نیا سفریہی زندگی کا دستور ہے
ماہتاب میں یہ کہانی ہےپرانی گلی سہانی ہے