Demo Nazm — Kitaab (کتاب)
کتابیں کھلی ہیں میز پرالفاظ جاگ رہے ہیں
کتابیں کھلی ہیں میز پرالفاظ جاگ رہے ہیں
ساگر کی گہرائی میںکئی خواب دفن ہیں
نئی صبح کے پر کھلنے لگےشب کے تارے بجھنے لگے
دریا ہر موڑ پر نیا سبق دیتا ہےبہنا سیکھو تو رکنا کیا ہے
ماں کی گود دنیا کی پہلی چھاؤں ہےاس کی دعا ہر فاصلے کی ساتھی
شہر کی بھیڑ میں تنہائی کی باتسب جانتے ہیں، کوئی نہیں کہتا
باغ میں صبح کی پہلی بو ہےپھولوں نے اپنی سی سانس لی
خواب وہ مٹی نہیں جو پان میں ملےیہ دل کی سب سے صاف زبان ہے
یہ میری زمین، میری پہچانیہاں کی ہر شے سچ کی زبان
پہلی بارش کی بو کے ساتھپرانی گلی یاد آتی ہے