Demo Sher — Umeed
اندھیرا کتنا بھی گھرا ہوصبح کا رستہ نہیں بھولتا
اندھیرا کتنا بھی گھرا ہوصبح کا رستہ نہیں بھولتا
پہلی بارش کا قطرہ جب گرازمین نے خط لکھا آسمان کے نام
غم سے جو رشتہ جوڑ لیااب وہی سب سے پرانا ہے
دل میں جو نور اترا ہےوہ آنکھوں سے جھلکتا ہے
دوستوں کے پتے دل میں محفوظ ہیںپتہ بدلے تو بھی یاد نہیں بدلتی
یاد تیری آتی ہے تو دعا بن جاتا ہوںدعائیں کر کے سو جاتا ہوں ترے نام پر