Demo Ghazal — Chand (چاند)
چاند پوچھتا ہے ہر رات مجھ سےتیرا چہرہ کہاں چھپا ہے
چاند پوچھتا ہے ہر رات مجھ سےتیرا چہرہ کہاں چھپا ہے
راستے خود نہیں چلتےچلنے والے چلے جاتے ہیں
ماہتاب میں یہ کہانی ہےپرانی گلی سہانی ہے
کتابیں کھلی ہیں میز پرالفاظ جاگ رہے ہیں
ساگر کی گہرائی میںکئی خواب دفن ہیں
نئی صبح کے پر کھلنے لگےشب کے تارے بجھنے لگے
دریا ہر موڑ پر نیا سبق دیتا ہےبہنا سیکھو تو رکنا کیا ہے
ماں کی گود دنیا کی پہلی چھاؤں ہےاس کی دعا ہر فاصلے کی ساتھی