Demo Ghazal — Nayi Subah (نئی صبح)
اک نئی صبح کی تلاش میںچراغ اٹھا کے چلتے ہیں ہم
اک نئی صبح کی تلاش میںچراغ اٹھا کے چلتے ہیں ہم
خواب وہ مٹی نہیں جو پان میں ملےیہ دل کی سب سے صاف زبان ہے
بارش کے قطرے کھڑکی پرلکھتے ہیں کہانیاں پیار کی
یہ میری زمین، میری پہچانیہاں کی ہر شے سچ کی زبان
تنہائی کی رات بڑھتی ہےستارے بھی غم میں روتے ہیں
پہلی بارش کی بو کے ساتھپرانی گلی یاد آتی ہے
سجدوں میں جب بھی جھکا میںسکون ملا ہے ترے پس
یاد تیری آتی ہے تو دعا بن جاتا ہوںدعائیں کر کے سو جاتا ہوں ترے نام پر
دوست وہ جو رنج میں ساتھ دےخوشی میں سب ساتھ ہوتے ہیں
مٹی کی خوشبو روح میں گھلیپرچم بلند رہے ہر صبح