Demo Afsana — Ek Shaam ki Baat
(Demo prose — original sample text.) شام ڈھلی تو پرانے محلے کی گلی سنسان ہو گئی۔ بھوپو چاچا نے دکان کی شٹر آدھی گھسیٹی…
(Demo prose — original sample text.) شام ڈھلی تو پرانے محلے کی گلی سنسان ہو گئی۔ بھوپو چاچا نے دکان کی شٹر آدھی گھسیٹی…
نورِ کائنات کا نام ہے تیراہر جا ہے تیری شان نمایاں
(Demo essay — original sample text.) ادب کا پہلا فرض یہ نہیں کہ وہ سچ بتا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سچ کے…
رحمت کا پیغام لے کر آئےدنیا کو جس نے سجا دیا
(Demo criticism — original sample text.) غزل اردو شاعری کا سب سے مربوط اور سب سے آزاد سرمایہ ہے؛ اس کا اشاری اور اس…
دروازوں پر روشنی ہےدربار کی یہی شان ہے
(Demo essay — original sample text.) خطابت زبان کی وہ طاقت ہے جو سوچ کو عوام کی زبان دے دیتی ہے۔ یہ ڈیمو مضمون…
شہر کی بھیڑ میں تنہائی کی باتسب جانتے ہیں، کوئی نہیں کہتا
یہ شام بھی کتنی سہانی ہےتیری یادوں کا پیار سمایا ہے
باغ میں صبح کی پہلی بو ہےپھولوں نے اپنی سی سانس لی