Demo Sher — Baarish ka Khat
پہلی بارش کا قطرہ جب گرازمین نے خط لکھا آسمان کے نام
پہلی بارش کا قطرہ جب گرازمین نے خط لکھا آسمان کے نام
شام نے گلابوں سے بات کیخوشبو نے پھر سے ذات کی
بارش کے قطرے کھڑکی پرلکھتے ہیں کہانیاں پیار کی
چاند پوچھتا ہے ہر رات مجھ سےتیرا چہرہ کہاں چھپا ہے
ماہتاب میں یہ کہانی ہےپرانی گلی سہانی ہے
ساگر کی گہرائی میںکئی خواب دفن ہیں
باغ میں صبح کی پہلی بو ہےپھولوں نے اپنی سی سانس لی
پہلی بارش کی بو کے ساتھپرانی گلی یاد آتی ہے