Demo Ghazal — Yeh Shaam (شامِ یادوں)
یہ شام بھی کتنی سہانی ہےتیری یادوں کا پیار سمایا ہے
یہ شام بھی کتنی سہانی ہےتیری یادوں کا پیار سمایا ہے
بارش کے قطرے کھڑکی پرلکھتے ہیں کہانیاں پیار کی
چاند پوچھتا ہے ہر رات مجھ سےتیرا چہرہ کہاں چھپا ہے
ماں کی گود دنیا کی پہلی چھاؤں ہےاس کی دعا ہر فاصلے کی ساتھی
پہلی بارش کی بو کے ساتھپرانی گلی یاد آتی ہے
یاد تیری آتی ہے تو دعا بن جاتا ہوںدعائیں کر کے سو جاتا ہوں ترے نام پر