Demo Sher — Umeed
اندھیرا کتنا بھی گھرا ہوصبح کا رستہ نہیں بھولتا
اندھیرا کتنا بھی گھرا ہوصبح کا رستہ نہیں بھولتا
یہ شام بھی کتنی سہانی ہےتیری یادوں کا پیار سمایا ہے
اک نئی صبح کی تلاش میںچراغ اٹھا کے چلتے ہیں ہم
کتابیں کھلی ہیں میز پرالفاظ جاگ رہے ہیں
نئی صبح کے پر کھلنے لگےشب کے تارے بجھنے لگے
خواب وہ مٹی نہیں جو پان میں ملےیہ دل کی سب سے صاف زبان ہے