Rubai Demo Rubai — Shaam aur Gulab از Mehreen Falak (Demo Poet) شام نے گلابوں سے بات کیخوشبو نے پھر سے ذات کیکون جانتا ہے دل کی زبانگل ہی نے سب سے بات کی نقل کریںشیئر کریںWhatsAppFacebookXEmailلنک نقل کریںمحفوظ کریں